Post by Syed Afnan Altaf

Digital Banking | Mobile Financial Services | Branchless Banking | Product Management & Development | Projects Implementation & Integration Professional

میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ بازار گیا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ایک نوجوان عورت نے ملاقات کی اور عرض کیا کہ یا امیرالمؤمنین ! میرے شوہر کی وفات ہو گئی ہے اور چند چھوٹی چھوٹی بچیاں چھوڑ گئے ہیں ۔ خدا کی قسم کہ اب نہ ان کے پاس بکری کے پائے ہیں کہ ان کو پکا لیں ، نہ کھیتی ہے ‘ نہ دودھ کے جانور ہیں ۔ مجھے ڈر ہے کہ وہ فقر و فاقہ سے ہلاک نہ ہو جائیں ۔ میں خفاف بن ایماء غفاری رضی اللہ عنہ کی بیٹی ہوں ۔ میرے والد آنحضرت ﷺ کے ساتھ غزوہ حدیبیہ میں شریک تھے ۔ یہ سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ ان کے پاس تھوڑی دیر کے لیے کھڑے ہو گئے ‘ آگے نہیں بڑھے ۔ پھر فرمایا : مرحبا ‘ تمہارا خاندانی تعلق تو بہت قریبی ہے ۔ پھر آپ ایک بہت قوی اونٹ کی طرف مڑے جو گھر میں بندھا ہوا تھا اور اس پر دو بورے غلے سے بھرے ہوئے رکھ دیئے ۔ ان دونوں بوروں کے درمیان روپیہ اور دوسری ضرورت کی چیزیں اور کپڑے رکھ دیئے اور اس کی نکیل ان کے ہاتھ میں تھما کر فرمایا کہ اسے لے جا ‘ یہ ختم نہ ہو گا اس سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ تمہیں پھر اس سے بہتر دے گا ۔ ایک صاحب نے اس پر کہا ‘ یا امیرالمؤمنین ! آپ نے اسے بہت دے دیا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : تیری ماں تجھے روئے ‘ خدا کی قسم ! اس عورت کے والد اور اس کے بھائی جیسے اب بھی میری نظروں کے سامنے ہیں کہ ایک مدت تک ایک قلعہ کے محاصرے میں وہ شریک رہے ‘ آخر اسے فتح کر لیا ۔ پھر ہم صبح کو ان دونوں کا حصہ مال غنیمت سے وصول کر رہے تھے ۔ Sahih Bukhari#4161 کتاب غزوات کے بیان میں Status: صحیح Download Islam360 Now : https://lnkd.in/dYWTZp-R