Post by Qaisar Abbas Qaisar شاعر۔ادیب

Freelance Writer

کیا واقعی ادب کا چراغ گل ہو رہا ہے؟ ​اکثر یہ شکوہ سننے کو ملتا ہے کہ "آج کی نسل کو ادب کی الف ب بھی نہیں معلوم، سب انگریزی کے سحر میں کھو گئے ہیں۔" یہ جملہ کہنے والے شاید اپنی تسلی کر کے آگے بڑھ جاتے ہیں، مگر حقیقت کی آنکھ سے دیکھیں تو تصویر کا دوسرا رخ بالکل مختلف ہے۔ ​آج اگر آپ مہنگائی کا رونا رونے کے باوجود کسی سنار کی دکان کا رخ کریں، تو وہاں موجود رش دیکھ کر گمان ہوتا ہے جیسے پوری دنیا سونا خریدنے نکلی ہے۔ اسپتال جائیں تو لگتا ہے جیسے پوری خلقت ہی بیمار ہے۔ یعنی جس شعبے یا جس تعلق سے بھی آپ اپنا ربط جوڑتے ہیں، وہاں آپ کو افراد کا ہجوم، مقابلہ اور چہل پہل بدرجہ اتم دکھائی دیتی ہے۔ ​ادب کے میدان میں بھی صورتِ حال اس سے مختلف نہیں۔ ​اگر آپ اردو ادب، شاعری، افسانہ نگاری یا کالم نگاری کی دنیا میں قدم رکھیں، تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ یہاں بھی تخلیق کاروں کا کتنا بڑا اور سخت مقابلہ موجود ہے۔ یہاں بھی نئی سوچ، نئے اسلوب اور نئے لب و لہجے کے لیے ایک مسلسل تگ و دو جاری ہے۔ ​ہماری گزارش: دنیا پر تبصرہ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اسے محض زمین کی سطح سے نہیں، بلکہ اونچائی سے دیکھا جائے۔ اپنی رائے کو معتبر اور وزنی بنانے کے لیے سطحی تاثرات سے نکل کر مکمل اور گہرے جائزے کو اپنا شعار بنائیں۔ اردو ادب کا قاری اور لکھاری آج بھی موجود ہے، بس اسے ایک نئے تناظر، حوصلہ افزائی اور متوازن تنقیدی نظر کی تلاش ہے۔ ​آئیے، 'سپاس انٹرنیشنل' کے پلیٹ فارم سے اردو کے اس کارواں کو مزید توانا کریں اور کھلی آنکھوں سے دنیا کا مشاہدہ کرتے ہوئے اپنی تحریروں کو عہدِ حاضر کا ترجمان بنائیں۔ ​سپاس انٹرنیشنل ادب، شعور اور تخلیق کا سفر ​#SpasInternational #UrduAdab #Literature #UrduPoetry #CriticalThinking #CreativeWriting #سپاس_انٹرنیشنل #اردو_ادب #شاعری #افسانہ #کالم_نگاری #فکر_و_شعور

Post content