Post by Muhammad Azhar Siddique
Managing Partner at Mohammad & Ahmad
ہم گزشتہ پچیس سالوں سے پاور سیکٹر کے معاملات کو قانونی طور پر دیکھ رہے ہیں۔ نواز شریف کے 2013 کے دور میں مختلف کمپنیوں کے چار سو اسی ارب روپے تھے، جن کا آڈٹ نہیں ہونے دیا گیا تھا۔ جب واپڈا کو ڈی بنڈل کیا گیا اور کمپنیوں کو علیحدہ علیحدہ کر دیا گیا تو اربوں کا نقصان ہو گیا۔ پہلے گیس کا سرکولر ڈیٹ نہیں ہوتا تھا اور اب وہ بھی بہت زیادہ بڑھ چکا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا فارمولا Lahore High Court 2022 سے مانگ رہی ہے۔ ڈیزل کا تقریباً پچھتر فیصد پاکستان میں پیدا ہوتا ہے اور اس کا انٹرنیشنل امپیکٹ تو بنتا ہی نہیں ہے۔ بجلی اور گیس مہنگی کر دی گئی۔ ٹیکس مقرر کرنا پارلیمان کا کام ہے مگر پٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی انہوں نے خود سے لگا رکھی ہے اور ہم نے اسے چیلنج بھی کیا ہوا ہے۔ مکمل پروگرام لنک: https://lnkd.in/dHQKAqx8
Video Content