Post by Mudassar Shahbaz

Founder Sales Academy Pakistan | Leadership Development Facilitator

ہر ایک کا سفر ایک سا نہیں ہوتا نہیں ہی منزل اور نہ ہی راستہ ایک جیسا۔۔ کوئی کہیں سے آتا اور کہیں جاتا بظاہر سب ایک کشتی کے سوار لگتے لیکن کوئی کہیں سے بیٹھتا اور جا کیں اترتا کوئی پہلے بیٹھتا اور آخر میں اترتا۔۔۔۔ کسی کی گھٹڑی میں کچھ ہی اناج دانا اور کسی کی گھٹری بھری ہوئی۔۔۔ موازنہ کیسا پھر۔۔۔ بھلا جسم ایک جیسے ہونے سے موازنہ ایک جیسا کیسے ؟ وسائل مسائل رسائل دلائل رضائل ایک جیسے نہیں تو فضائل کیسے ایک جیسے ہو سکتے۔۔۔ کیسا موازنہ ، فکر کیسی۔۔۔ کسی کو پیدا ہوتے ملا ، کسی کو مرتے دم تک نہ مل سکا، کسی کو تھوڑی محنت سے ملا کسی کو بہت لمبا کشت حصے میں آیا۔۔ لیکن ہرایک کو جو بھی ملا وہ اس کو اٹھانے کے استطاعت رکھتا تھا تو ملا۔۔۔ بس یہی زندگی ، یہ زمانہ۔۔۔ جو اللہ نے کہا کہ زمانہ کو بُرا مت کہو۔۔۔ زمانہ تو مجھ سے ہے ، میں ہوں زمانہ۔۔۔ ایک انچ کی آنكھ سے بھلا انسان کہاں تک دیکھ سکتا۔۔ جیسے موسٰی کو صبر نہیں آیا اور سوال پہ سوال۔۔۔ ہم سب بھی بس سوال پہ سوال۔۔ موازنہ اوع کبھی مایوس۔۔ ہمیں نظر ہی کتنا آتا جو ہم مایوس ہوتے یا موازنہ کرتے۔۔۔۔ حسد کرتے، خوف میں مبتلا۔۔ الله پہ یقین ہی کہاں۔۔ اسی لیے موازنہ ، ڈر، مایوس۔۔۔۔ ایک انچ آنکھ اور بس۔۔۔ اصل آنكھ تو الله کسی کسی کو دیتا ۔۔جیسے ہیلن کیلر جیسی نابینا اور بصارتوں اور جسمانی صلاحیتوں سے محروم تک جیسی خدا کی بندی کہتی کہ اصل نا بینا تو وہ ہے جس کے پاس آنکھیں ہیں لیکن اس کو نظر نہیں آتا۔۔ جو اقبال نے کہا کہ گراں ہے چشم بینا دیدہ ور پر جہاں بینی سے کیا گزری شرر پر! نظر ، درد و غم و سوز و تب و تاب تو اے ناداں، قناعت کر خبر پر بس الله نظر عطا کرے۔۔۔ نظر ، جو کسی انسان کے،کسی حادثے کے پیچھے جھانکنے کا حوصلہ اور ظرف رکھتی ہو۔۔۔ کیونکہ سب کچھ اسی کا ۔۔۔جو وہ چاہے سو وہ کرے۔۔۔ #تخیل #mudasirshahbaz #personaldevelopment #مدثرکاقلم

Post content