Post by M Methal
--
Pir Syed Bashir Ahmad Shah RA پیر سید بشیر احمد شاہ رحمۃ اللہ علیہ: سادگی، محبت اور خدمت کا پیکرپیر سید بشیر احمد شاہ کاظمی مشہدی نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ صرف ایک بزرگ شخصیت نہیں تھے بلکہ ان کی زندگی میں سیرتِ مولا علی علیہ السلام کی جھلک نمایاں نظر آتی تھی۔آپ آلِ رسول ﷺ اور اولادِ مولا علی علیہ السلام میں سے تھے، اور آپ کا کردار، طرزِ زندگی اور اخلاقِ حسنہ اس مبارک نسبت کی گواہی دیتے تھے۔ جس طرح امیرالمؤمنین مولا علی علیہ السلام سادگی، عاجزی اور انکساری کو پسند فرماتے تھے، اسی طرح شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اپنی زندگی میں تکلف اور نمود و نمائش سے ہمیشہ اجتناب کیا۔آپ نے کبھی اپنی ذات کے لیے آرام و آسائش کو اہمیت نہیں دی۔ طبیعت ناساز ہونے کے باوجود زمین پر تشریف فرما ہوتے، زمین پر بیٹھ کر محفل فرماتے اور سنتے تھے۔ آپ نے کبھی اپنی ذات کے لیے صوفے پر بیٹھنے کو پسند نہیں کیا۔ جامعہ مسجد ابو بکر صدیق لاہور میں بھی اپنی ذات کے لیے کبھی صوفے کا اہتمام نہیں کروایا گیا، البتہ اپنے پیر و مرشد حضرت خواجہ زندہ پیر رحمۃ اللہ علیہ کے ادب اور احترام میں ان کے لیے خصوصی اہتمام کیا جاتا تھا۔ یہ آپ کے ادبِ مرشد، عاجزی اور اعلیٰ اخلاق کا روشن نمونہ تھا۔آپ حضرت خواجہ زندہ پیر رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ مجاز تھے اور ان ہی کے حکم و ہدایت پر تقریباً چالیس سال تک حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ کے دربار پر ہر جمعرات محافلِ ذکر منعقد کرواتے رہے۔ ان محافل سے بے شمار لوگوں نے روحانی فیض حاصل کیا اور اللہ تعالیٰ کی یاد سے اپنے دلوں کو منور کیا۔آپ نے جامعہ مسجد ابو بکر صدیق لاہور میں طویل عرصہ امامت و خطابت کی ذمہ داریاں ادا کیں۔ جمعہ کے خطبات دیے، نمازوں کی امامت فرمائی اور اپنی پوری زندگی اللہ تعالیٰ کے دین، اس کے گھر اور مخلوقِ خدا کی خدمت کے لیے وقف کر دی۔آپ کی شخصیت محبت، شفقت اور انسان دوستی کا حسین امتزاج تھی۔ آپ کے چہرے کی مسکراہٹ، نرم لہجہ اور درد مند دل لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا تھا۔ بیماروں کی عیادت کرنا، دکھی دلوں کو تسلی دینا، لوگوں کے غم بانٹنا اور دعاؤں کے ذریعے ان کے دلوں کو سکون پہنچانا آپ کی عادتِ مبارکہ تھی۔والدین خصوصاً اپنی والدہ سے آپ کی محبت مثالی تھی۔ آپ اپنی والدہ کی جوتی مبارک کو فریم کروا کر اپنے کمرے میں رکھتے تھے اور گھر سے نکلتے وقت ادب و محبت کے ساتھ اسے بوسہ دیتے تھے۔ یہ صرف جذباتی وابستگی نہیں بلکہ ماں کے مقام، احترام اور عظمت کا عملی اظہار تھا۔ آج آپ اپنی والدہ کے قریب آسودۂ خاک ہیں، اور یہ منظر ماں اور بیٹے کے درمیان محبت اور وفاداری کی ایک خوبصورت یاد دلاتا ہے۔پیر سید بشیر احمد شاہ رحمۃ اللہ علیہ ہر رشتے میں مثالی تھے۔ آپ ایک فرمانبردار بیٹے، شفیق بھائی، مخلص شوہر، محبت کرنے والے والد اور بہترین انسان تھے۔ آپ کی سیرت، عاجزی، محبت، خدمتِ خلق اور حسنِ اخلاق آج بھی آپ کو جاننے والوں کے دلوں میں زندہ رکھے ہوئے ہیں۔اللہ تعالیٰ حضرت پیر سید بشیر احمد شاہ رحمۃ اللہ علیہ کے درجات بلند فرمائے، ان کی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے اور ہمیں بھی ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔ WordPress: https://lnkd.in/eQhV6eVS�Medium: https://lnkd.in/eYcH7rDK�#PirSyedBashirAhmadShah #GhamkolSharif #ZindaPir #IslamicScholar #Imam #Khateeb #Sufism #Naqshbandi #SpiritualLegacy :::