Post by Iram Kashif
M.Sc Economics | Socio-Economic Content Writer | Aspiring Researcher at Self-Employed / Independent
"Assalam-o-Alaikum LinkedIn community! As an Economics graduate, I have always been fascinated by how numbers impact human lives. Today, I am sharing my first column, 'Mehangai ka Bazar aur Neelam hoti Khuddari,' where I discuss the socio-economic challenges of the 75% lower-middle class in Pakistan. I look forward to connecting with fellow economists, writers, and professionals here. Looking for opportunities in Content Writing and Economic Research. مہنگائی کا بازار اور نیلام ہوتی خودداری تحریر: ارم کاشف بہت مجبور ہو کر آج قلم اٹھایا ہے اور دل کڑھ رہا ہے؛ حکومت کی ایک نہیں بلکہ مسلسل زیادتیاں دیکھ کر۔ ستم ظریفی تو یہ ہے کہ ہم عام عوام اتنے بے بس کر دیے گئے ہیں کہ شاید اب احتجاج کا حق بھی کھو چکے ہیں۔ ہمارے حصے میں صرف ایک ہی مشورہ آ رہا ہے: "صبر کرو، صبر کرو!" مگر صبر کی تلقین کرنا ان کے لیے بہت آسان ہے جن کے گھروں میں یو پی ایس کی بیپ سنائی نہیں دیتی اور جن کے چولہے گیس کی قلت سے ٹھنڈے نہیں پڑتے۔ اکیسویں صدی کے اس چکا چوند دور میں، جہاں ترقی کے دعوے انٹرنیٹ کی رفتار سے کیے جاتے ہیں، وہاں ایک عام پاکستانی کا اصل امتحان اپنی خودداری کو مہنگائی کے بازار میں نیلام ہونے سے بچانا ہے۔ ہمارے حکمران شاید اس زمینی حقیقت سے ناواقف ہیں، یا شاید دانستہ چشم پوشی کر رہے ہیں کہ پاکستان کا 75 فیصد طبقہ لوئر مڈل کلاس یا اس سے بھی نیچے کی سطح پر زندگی گزار رہا ہے۔ جب ملکی بجٹ تشکیل دیا جاتا ہے، تو اعداد و شمار کی جادوگری میں اس بڑے طبقے کو کیوں نظر انداز کر دیا جاتا ہے؟ کیا بجٹ صرف اشرافیہ کی سہولت اور عالمی اداروں کو خوش کرنے کے لیے ہوتا ہے؟ ایک دہائی سے زائد عرصے سے ہم ایک ہی تماشہ دیکھ رہے ہیں؛ ہر آنے والی حکومت اپنی نااہلی اور کوتاہیوں کا ملبہ پچھلی حکومت پر ڈال کر بری الذمہ ہو جاتی ہے۔ "سیاسی اور معاشی بحران" کی اصطلاحات کو ڈھال بنا کر غریب عوام کو ایک بار پھر بیوقوف بنایا جاتا ہے۔ عوام کو مہنگائی کی چکی میں پیسنے کے بعد، اب تو انہیں احتجاج کے حق سے بھی محروم کیا جا رہا ہے۔ بے وقت کی لوڈ شیڈنگ، گیس کی قلت، پیٹرول کی آسمان چھوتی قیمتیں اور اس پر ستم یہ کہ آواز اٹھانے پر پابندی—سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک انسان کتنے محاذوں پر صبر کرے؟ اکیسویں صدی کا انسان پتھر کے دور کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے، مگر اس سے توقع یہ کی جاتی ہے کہ وہ خاموش رہے۔ یہ خاموشی اب صبر نہیں، بلکہ ایک لاوا ہے جو کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اس 75 فیصد عوام میں جہاں تجربہ کار "بومرز" موجود ہیں، وہیں جوش سے بھرپور "جین زی" (Gen Z) بھی شامل ہے۔ یہ دونوں نسلیں اگر باہمی محاذ آرائی کے بجائے ایک دوسرے کا ہاتھ تھام لیں، تو ان کے پاس اتنی عقل، ہمت اور طاقت ہے کہ نہ صرف اپنی تقدیر بدل سکیں بلکہ ملک کو بھی اس بھنور سے نکال لیں۔ جب تجربہ اور جدید ٹیکنالوجی کا ساتھ ہوگا، تو کوئی بھی معاشی بحران اس عوامی طاقت کا راستہ نہیں روک سکے گا۔ حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ اپنی کرسیوں کی جنگ چھوڑ کر اس 75 فیصد عوام کی بقا کی جنگ لڑیں، ورنہ تاریخ گواہ ہے کہ جب عوام کی خودداری نیلام ہونے لگتی ہے، تو پھر تخت و تاج سلامت نہیں رہتے۔ #FirstPost #Economics #Pakistan #ContentWriter #SocialIssues"