Post by Haris Khan
work as a salesman in Six B Foods
Most Important Message for Every Muslim عربوں کے ہاں جو اونٹنی اپنی افادیت کھو دیتی، کسی کام کی نہ رہتی، اُسے پالنے کا خرچہ ، اُس سے حاصل ہونے والے فائدے سے کہیں زیادہ ہو جاتا، تو اُسے ریوڑ سے الگ کر کے جنگل کی طرف چھوڑ آتے ، جہاں وہ کھلے میدانوں میں آوارہ پھرتی، جہاں سے چاہتی کھاتی پیتی اور جہاں چاہتی لیٹ جاتی۔ یہ اونٹنی اتنی بے وقعت ہو جاتی کہ اس کی فکر کرنا بھی بے معنی لگتا، بلکہ اس کی ملکیت کا دعوی کرنے والا بھی کوئی نہ ہوتا۔ یہ اونٹنی اپنے بھاری بھرکم جسم کے ساتھ ، زمین کے کچھ حصے پر جگہ تو گھیرتی، آکسیجن بھی استعمال کرتی ، لیکن اپنے وجود کے مقصد میں کوئی حصہ ادا نہ کر پاتی ، نہ دودھ دیتی ، نہ بچے ، نہ اس کی کھال استعمال ہوتی اور نہ گوشت۔ اس اونٹنی کو سُدی کہا جاتا ۔ اَیَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ یُّتْرَكَ سُدًى(36) کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اسے یونہی آزاد چھوڑ دیا جائے گا۔ (سورت قیامہ: 36) قرآن کریم نے اس لفظ کو ایسے انسان کےلیے استعمال کیا ہے جو اپنی اصل ذمہ داری اور مقصد کو چھوڑ بیٹھا ہو، جس کی زندگی وحی کے نور سے خالی ہو ، جس کے ذہن میں موت کی کوئی فکر نہ ہو، جسے آخرت میں جوابدہی کا کوئی احساس نہ ہو، جو صرف کھاتا پیتا، جاب اور ملازمت کرتا ہو، جس کا سب سے بڑا مقصد گھر بنانا، دوسرے ملک شفٹ ہونا، سوشل میڈیا استعمال کرنا، اس پر فالورز کا ڈھیر لگانا، کسی خوبصورت لڑکی یا لڑکے سے شادی کرنا، ڈگری حاصل کرنا اور کسی بڑے عہدے پر براجمان ہونا ہو۔ اس سے زیادہ زندگی کا کوئی مقصد نہ ذہن میں ہو، نہ عمل میں۔ یہ شخص سُدی ہے۔ کیونکہ اس نے اپنی تخلیق کا مقصد چھوڑ دیا ہے، اب یہ دنیا کے کسی بھی شعبے میں کامیابیوں کے جھنڈے گاڑ دے، سورج کی شعاعوں کو گرفتار کر لے، ستاروں کی گزرگاہوں کو جان لے، سمندروں کے سینے چاک کر ڈالے، زمین کے پوشیدہ خزانوں پر قبضہ کر لے، روشنی کی رفتار پر کمند ڈال دے، مصروفیت کے ہزاروں ڈھونگ رچا لے۔ تب بھی یہ سُدی ہی ہے۔ یہ ایسا جانور ہے جو زمین پر بوجھ ہے، اس کے مرنے پر نہ زمین روتی ہے، نہ آسمان۔ فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَآءُ وَالْاَرْضُ پھر نہ ان پر آسمان رویا، نہ زمین۔ (سورت دخان: 29) جن مقاصد اور اہداف کو وہ اپنی زندگی میں جی رہا ہے، اس کے بقول یہی زندگی کے حقیقی مقاصد ہیں، لیکن حقیقت میں یہ مقاصد معاشرے نے اس پر مسلط کیے ہیں، کامیابی و ناکامی کے یہ معیارات زمانے نے رائج کیے ہیں، اگر وہ قرآن پڑھ لے، نبی اکرم ﷺ کی سیرت کو دیکھ لے، تو اسے شدت سے احساس ہو کہ میں تو سُدی ہوں۔ جب تک اس کا دل نورِ قرآن سے منور نہیں ہو جاتا، یہ مادی کامیابیاں اسے اصل مقصدِ زندگی تک پہنچنے ہی نہیں دیں گی۔ یہ قرآن ہی ہے جو دنیا میں مصروف رکھ کر بھی آخرت کو نظروں سے پوشیدہ نہیں ہونے دیتا : وَ ابْتَغِ فِیْمَاۤ اٰتٰىكَ اللّٰهُ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ وَ لَا تَنْسَ نَصِیْبَكَ مِنَ الدُّنْیَا اور اللہ نے تمہیں جو کچھ دے رکھا ہے، اس کے ذریعے آخرت والا گھر بنانے کی کوشش کرو اور دنیا میں سے بھی اپنے حصے کو نظر انداز نہ کرو۔ (سورت قصص: 77) ابھی سانس آ رہی ہے، تو موقع ہے، سوچ لیں کہ سُدی بن کر زندگی گزارنی ہے یا اپنی مقصدیت اور نافعیت ثابت کرنی ہے؟ اگر با مقصد اور نافع بننا چاہتے ہیں، تو آج ہی سے قرآن کریم کے ساتھ جڑ جائیں۔ یہ آپ کے ہر لمحے اور ہر قدم میں مقصدیت کو کوٹ کوٹ کر بھر دے گا۔ دعاؤں کا طالب۔۔۔ انجینیئر محمد اویس عباسی ۔