Post by Haider Ali
Attended Open Universiteit
مِرائی — وہ ذہین نظام جو ہفتوں کا انتظار گھنٹوں میں بدل دیتا ہے میں جب یہ پڑھا تو سوچتا رہا کہ مصنوعی ذہانت کا سب سے بڑا کام شاید یہی ہے انسانی بے چینی کو کم کرنا۔ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے سان فرانسسکو اور برکلے کیمپس کے سائنس دانوں نے مِرائی نامی ایک مصنوعی ذہانت کا نظام تیار کیا ہے جو میموگرام اسکین میں ایسے باریک نمونے پہچانتا ہے جو اکیلے ڈاکٹر کی آنکھ سے بھی اوجھل رہ سکتے ہیں۔ اس نظام کو ایک لاکھ چودہ ہزار سے زیادہ پرانے میموگراموں پر تربیت دی گئی۔ نتیجہ حیران کن رہا۔ جن خواتین کو تشخیص کے لیے کئی ہفتوں کا انتظار کرنا پڑتا تھا، مِرائی کے ذریعے ان کی تشخیص ایک گھنٹے میں ممکن ہو گئی۔ اور جن خواتین کو بایاپسی کی ضرورت تھی، ان کا انتظار دو مہینوں سے کم ہو کر دس دن سے بھی کم رہ گیا۔ چار ہزار سے زیادہ میموگراموں پر آزمائش میں اس نظام نے ساڑھے بارہ فیصد خواتین کو زیادہ خطرے والی قرار دیا جنہیں اسی روز مکمل معائنہ مل گیا۔ اہم بات یہ ہے کہ مِرائی ڈاکٹروں کی جگہ نہیں لیتا یہ انہیں فیصلہ کرنے میں مدد دیتا ہے کہ کس مریض کو فوری توجہ چاہیے۔ یہ تحقیق Nature Digital Medicine میں شائع ہوئی ہے۔ کیا آپ کے خیال میں مصنوعی ذہانت طبی تشخیص میں انقلاب لا سکتی ہے؟ تذکرہ کیجیے! ماخذ: Chung & Yala et al., npj Digital Medicine, May 19, 2026 DOI: 10.1038/s41746-026-02743-x University of California, San Francisco حیدر علی | حیرت کدہ #حیرت_کدہ #سائنس #مصنوعی_ذہانت #ٹیکنالوجی #طبی_سائنس #Mirai #AIinMedicine #UrduScience #UCSF